تَعَالٰی عَنْہَا اپنے گھریلو کام کاج کی اَنجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو عبادتِ الٰہی میں بھی مشغول رکھا کرتی تھیں خواہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کسی بھی کام میں ہوں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہر وقت یادِ الٰہی میں مگن رہتیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوتیں اور بیماری اور تکلیف کی حالت میں بھیاللہ تعالیٰ کی عبادت ترک نہ کرتیں ۔ آپ نے خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے جذبۂ عبادت کے متعلِّق مُلاحَظہ فرمایا اب ذَوقِ تلاوت مُلاحَظہ کیجئے۔
مصروفیَّت میں بھی ذِکْر ربوبِیَّت
حضرتِ سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْــہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور پُرنور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے سیِّدَہ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضِر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ حضراتِ حَسَنَینِ کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سو رہے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان کو پنکھا جھل رہی تھیں اور زبان سے کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی یہ دیکھ کر مجھ پر ایک خاص حالتِ رِقّت طاری ہوئی۔ (سفینۂ نوح، حصّہ دُوُم، ص۳۵)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو تلاوت کرنے کا کس قدَر ذَوق تھا کہ اپنی گھریلو مصروفِیّت کے دوران زبان سے تلاوتِ قراٰن کا وِرْد بھی جاری رکھتیں جبکہ ہماری