Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
71 - 470
ہیں: میں  نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو دیکھا کہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (بسا اَوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں  رات بھر نماز میں  مشغول رہتیں  یہاں  تک کہ صبح طلوع ہو جاتی۔ (مدارج النبوۃ(مترجم)، قسم پنجم، در ذکرِ اولادِ کِرام، سیدہ فاطمۃ الزہرا، ج۲، ص۶۲۳)
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کس قدَر عبادت کا ذَوق تھا کہ پوری پوری رات اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت میں  گزار دیتی تھیں  لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے حقیقی اُلفت ومحبّت کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف فرائض بلکہ سُنَن و نوافل کی ادائیگی کو بھی اپنا معمول بنائیں ۔ نماز کی اُلفت ومحبّت کو اُجاگر کرنے کی نیّت سے فضائل وبرکاتِ نماز پر مشتمل 3 اَحادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرمائیے:
نماز کی برکتیں
  {1  }… حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ موسمِ سرما میں  باہر تشریف لائے جبکہ درختوں  کے پتے جھڑ رہے تھے، آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیوں  کو پکڑا تو ان کے پتے جھڑنے لگے، آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! میں  نے عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں  حاضر ہوں ۔ تو ارشاد فرمایا: بیشک جب کوئی مسلمان بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے