میںدریائے دِجلہ پر پہنچا تو پانی جوش مارتا ہوا میرے اِستِقبال کو بڑھا لیکن میں نے کہا: ’’مجھے تیرے اِستِقبال سے(اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !) شَمَّہ برابر (یعنی تھوڑا سا)بھی غُرور نہ ہو گا کیونکہ میں اپنی 30 سالہ رِیاضت کو تکبُّر کر کے ہر گز ضائِع نہیں کر سکتا۔‘‘ (ایضاً ص۱۱۲)
اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
فخرو غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا
یاربّ! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجِزی کا
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۹۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ دو حکایتوں سے یہ درْس ملتا ہے کہ بندہ خواہ کیسا ہی بلند مَقام پالے اور کتنے ہی انعامات حاصِل کرلے اپنے نفس کو قابو سے باہَر نہ ہونے دے۔ اگر دل میں کوئی ایسا خَیال اُبھرتا محسوس ہو تو فوراً بارگاہِ الٰہی میں عاجِزی واِنکِساری کے ساتھ حاضر ہو کر تائب ہو تاکہ وساوسِ شیطانی سے دل پاک ہو اور عمل شفاف ہو اور اسی طرح شیطانی و نفسانی شُرُور سے محفوظ رہتے ہوئے باایمان موت سے ہم کِنار ہوں کہ باایمان موت دُنْیَوی زندگی کی اِنتِہائی کامیابی ہے اور اس کامیابی تک رسائی نیکی اور نیک ماحول سے