Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
64 - 470
جب تک ایسے کامِل بندے کو نہیں  بھیجے گا جو مجھ کو میری حقیقت سے رُوشناس (یعنی آگاہ)کرا سکے اُس وقْت تک یہیں  پڑا رہوں  گا۔‘‘ تین دن اِسی طرح گزر گئے تو چوتھے دن ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُونٹ پر آئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو قریب آنے کا اِشارہ کیا لیکن اس اشارے کے ساتھ اُونٹ کے پاؤں  زمین میں  دھنستے چلے گئے۔ انہوں  نے چُبھتے ہوئے لہجہ میں  کہا: ’’کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں  اپنی کھلی ہوئی آنکھوں  کو بند کر لوں  اور بند آنکھ کھول دوں  اور بایزید سمیت پورے بِسطام کو غرق کر دوں  ؟‘‘ یہ سن کر آپ گھبرا گئے اور پوچھا: ’’ آپ کون ہیں  اور کہاں  سے آئے ہیں  ؟‘‘ جواب دیا کہ ’’جس وقْت تم نے اللہ  تعالیٰ سے عہْد کیا تھا اُس وقْت میں  یہاں سے 3,000 میل (تقریباً4828کلومیٹر) دُور تھا اور اِس وقْت میں  سیدھا وہیں  سے آ رہا ہوں  ، میں  تمہیں  باخبر کرتا ہوں  کہ اپنے قلْب کی نگرانی کرتے رہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بُزُرگ غائب ہو گئے۔ (تَذْکِرَۃُ الْاَوْلِیاء (مترجم)، حضرت بایزید کے  حالات ومناقب، ص۱۰۳)
	اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جب دَرْیائے دِجلہ اِِستِقبال کے لئے بڑھا…
	حضرتِ سیِّدُنا بایزید بِسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں  کہ ایک مرتبہ