Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
63 - 470
نعمت وکرامت ملتی ہے مَشِیِّتِ ایزدی (مَ۔شِیْ۔یَت۔ ایزْ۔دِی یعنی اللہ کی مرضی، تقدیرِ الٰہی) اور جنابِ الٰہی سے ملتی ہے، اب بندے کی مرضی کہ وہ اس حقیقت کا مُقِرّ رہے یا نفس کی چالوں  اور شیطان کے جالوں  میں  الجھ کر اپنی محنت وکوشش کا نتیجہ تصوُّر کرے۔ بہر کیف قول وفعل اور زبان و دل ہر لحاظ سے اپنے آپ کو عاجِز تصوُّر کرنا اور ہر کمال کی نسبت ذاتِ الٰہی کی طرف کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے برگزیدہ بندوں  اور بندیوں  کا شِعار ہے۔ وہ بلند سے بلند تر مَقام تک رسائی پاکر بھی خود کو عاجِز و مُتَوَاضِع (مُ۔تَ۔وَا۔ضِع یعنی انکساری کرنے والے) رکھتے ہیں  اور بتقاضائے بَشَرِیَّت (یعنی انسان ہونے کے ناطے) اگر دل میں  اپنے بلند مَقام کا تصوُّر بھی آجائے تواس تصوُّر کو بھی تکبُّر جانتے اور اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں  ، جیسا کہ
اپنے دل کی نگرانی کرتے رہو!
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ97 صفْحات پر مشتمِل کتاب’’تکبُّر ‘‘ صفْحہ50پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا بایزید بِسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کو ایک مرتبہ یہ تَصَوُّر ہو گیا کہ میں  بَہُت بڑا بُزُرْگ اور شیخِ وقْت ہو گیا ہوں  ، لیکن اِس کے ساتھ یہ خَیال بھی آیا کہ میرا یہ سوچنا فخر و تکبُّر کا آئینہ دار ہے۔ چُنانچِہ فوراً خراسان کا رُخ کیا اور ایک منزِل پر پہنچ کر دعا کی: ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !