Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
62 - 470
	پھر حُضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ علی ،حضراتِ حسن وحسین اور دوسرے اہلِ بیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو جمع فرما کر سب کے ساتھ (سینی میں  سے) کھانا تَناوُل فرمایااور سب سیر ہوگئے پھر بھی کھانااسی قدر باقی تھا اور اس کو حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے پڑوسیوں  کو کھلایا۔(تَفْسِیْرِ رُوْحُ الْبَیَان، پ۳، اٰلِ عِمْرٰن، تحت الاٰیۃ۳۷، ج۲، ص۳۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی پیاری بندی، آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عظیم ُالشّان کرامتیں  کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دلجوئی کے لئے کبھی جنّتی کھانے حاضِر ہوں  اور کبھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی برَکت سے تھوڑا ساکھانا اہلِ بیت اور پڑوس کے کئی اَفراد کو کفایت کرے اور جب پوچھا جائے کہ یہ سب کیسے ہوگیاتو سیِّدَہ، عابِدہ، زاہِدہ کا جواب کہ یہ سب کچھ اللہُ رَزَّاق عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ہے، اس میں  ہمارے لئے تعلیم ہے کہ جب بھی کوئی فضل وکمال حاصِل ہو، دینی ودُنْیَوی عزَّت وعظَمت نصیب ہو تواس کو مِنْ جانِبِ اللہ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے) ہی تصوُّر کرنا چاہئے، اپنی ذات کی طرف اس کی نسبت نہیں  کرنی چاہئے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بندے کو جو بھی دین ودُنْیاکی