برَکت والی سِیْنِی(1)
زمانۂ قحط میں رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھوک محسوس کی تو بنتِ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بَتُول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (سِیْنِی میں ) نے ایک بوٹی اور دو روٹیاں اِیثار کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں بھیج دیں ۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس تحفہ کے ساتھ حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف تشریف لے آئے اور فرمایا: اے میری بیٹی!اِدھر آؤ۔ حضرتِ سیِّدَہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جب اس سینی کو کھولا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ وہ سینی روٹیوں اور بوٹیوں سے بھری ہوئی تھی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جان لیا کہ یہ کھانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔ حُضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے اِستفسار فرمایا: ’’اَ نّٰی لَکِ ھٰذَا؟ یعنی یہ سب تمہارے لئے کہاں سے آیا؟‘‘ تو حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرْض کیا: ’’ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللہِ اِنَّ اللہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَا0ءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ یعنی وہ اللہ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے تجھے بنی اسرائیل کی سردار (یعنی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے مشابہ بنایا۔
________________________________
1 - … یعنی دھات کا بنا ہوا روٹی سالن رکھنے والا خوان۔