ہیں: جب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے رُخِ انور کے نور سے ساری فضا مُنَوَّر ہو گئی۔ (اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والعشرون فی ازواج علی بن ابی طالب ۔۔۔الخ، ص۲۷۴، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نسوانی عَوارِض سے مُبَرَّا(1)
نبیِّ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’میری بیٹی فاطِمہ انسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض ونِفاس سے پاک ہے۔‘‘(کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الفضائل ، فضل اھل البیت ، ج۱۲، ص۵۰، الحدیث:۳۴۲۲۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پُرنور بنایا، حیض ونِفاس جیسے نسوانی عَوارِض سے دُور رکھا اور اس کے عِلاوہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ذات سِتودہ صِفات کو منبعِ برَکات (یعنی برکتوں کا سرچشمہ) بنایا جیسا کہ
________________________________
1 - … یعنی عورتوں کو پیش آنے والے معاملات سے پاک۔