Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
59 - 470
پر ہے: ہمارے غوثُ الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم مادر زاد ولی تھے۔ (۱) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ابھی اپنی ماں  کے پیٹ میں  تھے اور ماں  کو جب چھینک آتی اوراس پر جب وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہتیں  تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  پیٹ ہی میں  جواباً  یَرْحَمُکِ اللہکہتے۔ (۲) پانچ برس کی عمْر میں  جب پہلی بار بِسْمِ اللہ پڑھنے کی رسم کے لیے کسی بُزُرگ کے پاس بیٹھے تو اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللہ پڑھ کر سُوْرَۂ فاتِحہ اور الٓمّٓ سے لے کر اٹھارہ پارے پڑھ کر سنا دئیے۔ اُس بُزُرگ نے کہا، بیٹے اورپڑھئے! فرمایا: بس مجھے اتنا ہی یادہے کیونکہ میری ماں  کو بھی اتنا ہی یاد تھا۔ جب میں  اپنی ماں  کے پیٹ میں  تھا اُس وَقْت وہ پڑھا کرتی تھیں ۔ میں  نے سن کر یاد کرلیا تھا۔
	اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا	اونچے اونچوں  کے سَروں  سے قدَم اعلیٰ تیرا
ابنِ زہرا کو مُبارَک ہو عروسِ قدرت	قادِری پائیں  تصدُّق مِرے دولہا تیرا
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بوقتِ وِلادت فضا مُنَوَّر
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ شعیب حرِیفیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نقْل فرماتے