Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
57 - 470
ہمارے آقا محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جُھٹلایا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے بہتر نبی اور رسول ہیں ۔‘‘ تو حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اُن کے شِکمِ مُبارَک سے ندا دی: ’’اے امّی جان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! آپ غمزَدہ نہ ہوں  اور نہ ہی ڈریں  ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ   میرے والِدِ ِمُحترم (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کا مددگار ہے۔‘‘(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والعشرون فی ازواج علی بن ابی طالب ۔۔۔الخ ، ص۲۷۴)
	اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
تیری نسلِ پاک میں  ہے بچّہ بچّہ نُور کا
تُو ہے عینِ نُور ، تیرا سب گھرانا نُور کا
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
شرحِ کلامِ رضاؔ: 
	 یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ اولاد میں  بچہ بچہ نور ہے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات بھی سراپا نور ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سارا گھرانہ نورانی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد