{3}…جب تک بندے کا دسترخوان بچھا رہتا ہے، فِرِشتے اس پر رَحمتیں نازِل کرتے رہتے ہیں۔
(شُعَبُ الْاِیْمَان، باب فی اکرام الضیف ، فصل فی التکلف للضیف ،ج۷، ص۹۹، الحدیث :۹۶۲۶)
{4}۔۔۔ جو اپنے مسلمان بھائی کی بھوک مٹانے کا اِہتِمام کرے اور اسے کھانا کھلائے یہاں تک کہ وہ شِکم سیر ہو جائے اور اسے(پانی) پلائے حتّٰی کہ وہ (پانی پی کر) سیراب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفِرت فرما دے گا۔
(مسند ابی یعلٰی،ثابت البنانی عن انس،ج۳،ص۱۳۸،الحدیث۳۴۲۰)
{5}…جس نے بھوکے کو کھانا کھلایا اللہ تعالیٰ اسے سایۂ عرْش تلے جگہ عطا فرمائے گا۔
(مَکَارِمُ الْاَخْلَاق لابن ابی الدنیا، باب فضل اطعام الطعام، ص۳۷۳، الحدیث:۱۶۴)
پیاری پیاری اسلامی بہنو!ذکرکردہ اَحادیثِ مبارَکہ سے پتا چلتا ہے کہ مغفِرت، دعائے ملائکہ اور سایہ عرْش پانے اور بارگاہِ اِلٰہ میں بہتر آدمی قرار پانے کا ایک ذریعہ دوسروں کو کھانا کھلانا بھی ہے۔ ان عظیم ُالشّان اِنعامات کے حُصُول کے لئے اس عمل پر ضرور کاربند رہئے،اللہ تعالیٰ ہمیں اِستِقامت کے ساتھ نیکیاں کرنے اور نیکی کی دعوت عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم