Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
53 - 470
اللہُ السَّلَام کے لئے اِس معراجِ کَمال کا تَصَوُّر بھی نہیں  کیا جا سکتا، اِس میں  شک نہیں  کہ حَضَراتِ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیِْھمْ اَجْمَعِیْن سے اِس قدَر زیادہ کرامتوں  کا تذکرہ نہیں  ملتا جس قدَر کہ دوسرے اولیاءے کِرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے کرامتیں  منقول ہیں ۔ یہ واضِح رہے کہ کثرتِ کرامت، اَفضَلِیّتِ وِلایَت کی دلیل نہیں  کیونکہ وِلایَت دَرحقیقت قُربِ بارگاہِ اَحدِیَّت کا نام ہے اور یہ قربِ الٰہی جس کو جس قدَر زیادہ حاصِل ہو گا اُسی قدَر اُس کا دَرَجۂ وِلایت بلند سے بلند ترہو گا۔ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن  چونکہ نِگاہِ نُبُوَّت کے اَنوار اور فیضانِ رِسالت کے فُیُوض وبَرَکات سے مُستَفِیض ہوئے، اِ س لئے بارگاہِ ربِّ لَمْ یَزَلْ میں  اِن بُزُرگوں  کو جو قُرْب وتَقَرُّب حاصِل ہے وہ دوسرے  اَولیاء اللہ رَحِمَہُمُ اللہکو حاصِل نہیں ۔ اِس لئے اگرچہ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن سے بَہُت کم کرامتیں  منقول ہوئیں  لیکن پھر بھی اُن کا درَجۂ وِلایت دیگر اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے حد دَرَجہ اَفضل و اَعلیٰ اوربلند وبالا ہے۔ 
سرکارِ دو عالَم سے ملاقات کا عالَم		عالَم میں  ہے مِعراجِ کَمالات کا عالَم
یہ راضی خدا سے ہیں  خدا اِن سے ہے راضی	کیا کہئے صحابہ کی کرامات کا عالَم
(بَیَانَاتِ عَطَّارِیَّہ، حصّہ۳، ص۳۴۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد