وہ جنی اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھااور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے تو اسے اس کے ربّ نے اچھی طرح قبول کیااور اُسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہااے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا۔ بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَفضَلُ الَاولِیاء
عُلَمَائے کِرام و اَکابِرینِ اسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِس پر اِتِّفاق ہے کہ تمام صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن ’’اَفْضَلُ الاولیاء‘‘ ہیں ، قیامت تک کے تمام اَولیاء ُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہ اگرچِہ دَرَجۂ وِلایَت کی بلند ترین منزِل پر فائز ہو جائیں مگر ہرگز ہرگز وہ کسی صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کمالاتِ وِلایَت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ رسالت، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلاموں کو وِلایت کا وہ بلند وبالا مَقام عطافرمایا اوراِن مُقدَّس ہستیوں رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کوایسی ایسی عظیم ُ الشّان کرامتوں یعنی بُزرگیوں سے سرفَراز فرمایا کہ دوسرے تمام اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ