حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جنّ بولا: میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوّت والا، امانتدار ہوں ۔ اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا: یہ میرے ربّ کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا ربّ بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔
{2}… اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵) فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ-وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ-وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶) فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًاۙ-وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ-كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)(پ۳، اٰ لِ عِمْرٰن:۳۵ تا ۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے ربّ میرے! میں تیرے لئے منّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تُو مجھ سے قبول کرلے بے شک تو ہی ہے سنتا جانتا پھر جب اُسے جنا بولی باے ربّ میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ