Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
50 - 470
آسمانوں  اور زمین کی چُھپی چیزیں  اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو،اللہ  ہے کہ اس کے سوا کوئی سچّا معبود نہیں  ، وہ بڑے عرش کا مالک ہے سلیمان نے فرمایا: اب ہم دیکھیں  گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں  میں  ہے، میرا یہ فرمان لے جا کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں  وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزّت والا خط ڈالا گیا،بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہاللہ  کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم والایہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہواور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو۔ بولی: اے سردارو! میرے اس معاملہ میں  مجھے رائے دو، میں  کسی معاملہ میں  کوئی قطعی فیصلہ نہیں  کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔ وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں  اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے بولی: بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں  داخل ہوتے ہیں  اسے تباہ کردیتے ہیں  اور اس کے عزت والوں  کوذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں  اور میں  ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں  پھر دیکھوں  گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے پھر جب وہ سلیمان کے پاس آیا سلیمان نے فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں  دیا بلکہ تمہیں  اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں  گے جن کی انہیں  طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں  گے یوں  کہ وہ پست ہوں  گے سلیمان نے فرمایا: اے درباریو! تم میں  کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر