عالَمعَزَّوَجَلَّ ! جہاں تو نے میری خاطِر جنّت سے کھانابھیج کر میری لاج رکھ لی ہے وہاں تو میری خاطِر اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان قدَموں کے برابر جتنے قدَم چل کر میرے گھر تشریف لائے ہیں ، اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے گنہگاربندوں کو جہنّم سے آزاد فرما دے ۔
حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا جُوں ہی اس دعا سے فارِغ ہوئیں ایک دم ناگہاں (یعنی اچانک) حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلام یہ بِشارت لے کر بارگاہِ رِسالت میں اُتر پڑے کہ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو گئی،اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ ہم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر قدَم کے بدلے میں ایک ایک ہزار1000 گنہگاروں کو جہنّم سے آزاد کر دیا۔
(جامِعُ الْمُعْجِزات(مصری)، ص۶۵، بحوالہ سچّی حکایات)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ رِوایت محبوبِ ربُّ العزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عِلْمِیَّت، حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے جذبۂ سخاوت اور مَلکۂ جنّت کی عظَمت وکرامت کی بیِّن(یعنی واضح) دلیل ہے۔ نبیِّ غیب داں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہچان لیا کہ یہ آج کی دعوت کا کھانا