Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
45 - 470
اس رَزَّاقِ مُطلَق (بغیر کسی قید کے رزق عطا فرمانے والے) نے دَم زدَن میں  (یعنی فوراً) ان ہانڈیوں  کو جنّت کے کھانوں  سے بھر دیا۔
	حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے ان ہانڈیوں  میں  سے کھانانکالنا شروع کردیا اور حُضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ کھانا کھانے سے فارِغ ہوگئے لیکن خدا عَزَّوَجَلَّ  کی شان کہ ہانڈیوں  میں  سے کھانا کچھ بھی کم نہیں  ہوا اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کھانوں  کی خوشبو اور لذّت سے حیران رہ گئے۔ حُضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو مُتَحَیَّر (مُ۔تَ۔حَیْ۔یَر۔یعنی حیران) دیکھ کر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہوکہ یہ کھانا کہاں  سے آیاہے؟ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرْض کیا: نہیں  ، یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: یہ کھانا  اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں  کے لئے جنّت سے بھیج دیاہے۔
	پھر حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  گوشۂ تنہائی میں  جاکر سجدہ ریز ہو گئیں  اور یہ دُعا مانگنے لگیں  : یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدَم کے عِوَض ایک ایک غلام آزاد کیا ہے لیکن تیری بندی فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو اتنی اِستِطاعت نہیں  ہے لہٰذا اے خدا وند ِ