Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
47 - 470
کہاں  سے آیا، حضرتِ سیِّدُنا عثمان ذُوا لنُّورَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے اپنے دولت کدہ (یعنی مکانِ عالیشان) کی طرف بڑھنے والے ہر قدَمِ نبی پر غلام آزاد کئے، اور اللہ ُ مُعْطِی عَزَّوَجَلَّ   نے بنتِ رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو اپنے مہمانوں  کی میزبانی کے لئے جنّت کا کھانا بھیج کر اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دعا کو شرَفِ قَبُولِیَّت عطافرماکر اس دعوت کی طرف اٹھنے والے ہر قدمِ نبی کے صدْقے ہزار ہزار گناہ گاروں  کی شفاعت کا وعدہ فرما کرخاتونِ جنّت کو تاجِ کرامت سے نواز دیا۔
	اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کرامت حقّ ہے
اہلِ سنّت کا مُتّفِقہ عقیدہ ہے کہ صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اوراولیاءے عُظَام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامتیں  حق ہیں  اور ہر زمانے میں  اللہ والوں  کی کرامات کا صُدور وظُہورہوتارہا اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! قیامت تک کبھی بھی اِس کا سِلسِلہ مُنقطِع (مُن۔قَ۔طِع یعنی ختم) نہیں  ہوگا، بلکہ ہمیشہ اولیاءاللہ رَحِمَہُمُ اللہ سے کَرامات صادِر وظاہِر ہوتی رہیں  گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد