جاتا، میں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو مسلمان مردوں اورعورتوں کے لئے بَہُت زِیادہ دعائیں کرتے سنا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنی ذات کے لئے کوئی دُعا نہ کرتیں ، میں نے عرْض کی: پیاری امّی جان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دُعا نہیں کرتیں ؟ فرمایا: ’’پہلے پڑوس ہے پھر گھر۔‘‘ (مَدَارِجُ النُّبُوَّت (مترجم)، ج۲، قسم پنجم، باب اوّل در ذکر اولاد کرام، ص۶۲۳)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اِس واقِعہ میں اُن اسلامی بہنوں کے لئے کئی نصیحت آموز مدَنی پھول ہیں جو نوافِل تودَرکَنار فرائض سے بھی غفلت برتتی ہیں ، دوجہاں کے تاجدار، دوعالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحِبزادی، خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے تو راتیں عِبادتِ الٰہی میں گزاریں مگر ان کی راتیں غفلت میں گزرتی ہیں ، کبھی ’’گناہوں بھرے چینلز‘‘ کے سامنے’’فلمیں ڈرامے‘‘ دیکھتے، کبھی مہندی کی تقریب میں بے حَیائی کرتے اور کبھی شادی کے موقع پر خوب ڈھول پیٹتے، باجے بجاتے اور ڈانس کرتے گزرتی ہیں ، بے حیائی کو عار سمجھتی ہیں نہ بے پردگی سے خار کھاتی ہیں ، حالانکہ نورِ نگاہِ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پردے کا اس قدَر مدَنی ذِہْن کہ جیتے جی ہی نہیں بلکہ سفرِآخِرت پر گامزن ہوتے وقْت بھی اس کے بارے میں مُتَفَکِّر تھیں اور اس کی پابندی کی تاکید فرمائی، چُنانچِہ