کر دوعالَم کے مالِک ومختار، دُنیا وآخِرت کے شاہ وتاجْدار، اُمَّت کے غم گُسار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَشک بار ہوگئے اور اپنے اِختِیاری فاقوں کی خبر اور تسلِّی دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا: بیٹی! گھبراؤ نہیں ، ربّ (عَزَّوَجَلَّ ) کی قسَم! میں نے 3 دن سے کچھ نہیں کھایا حالانکہ بارگاہ ِ ربُّ العزَّت میں میرا تم سے زیادہ مرتبہ ہے، اگر میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں تو وہ مجھے ضرور کھلائے مگر میں نے دُنْیا پر آخِرت کو ترجیح دی ہے۔
کون ومکاں کے آقا ہو کر، دونوں جہاں کے داتا ہو کر
فاقے سے ہیں شاہِ دوعالَم ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
سروَرِ دوجہاں (1)، نبیِّ اِنْس وجاں (2)، والی ٔ کوثَر وجِناں (3) صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنافاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مزیدمَحبّتوں ، شفقتوں اور بِشارَتوں سے نَوازتے ہوئے اِرشاد فرمایا: ’’خوش ہو جاؤ کہ تم جنّتی عورَتوں کی سردار ہو اور تم جنّت کے ایسے محلّات میں رہو گی، جن میں کوئی عیب ہو گا نہ دُکھ اورنہ ہی کوئی تکلیف۔ پھر فرمایا: ’’اپنے چچازاد کے ساتھ خوش رہو(4)، میں نے دُنیا وآخِرت کے سردار کے ساتھ
________________________________
1 - … یعنی دونوں جہاں کے سردار
2 - … یعنی انسان وجنّات کے نبی
3 - … یعنی نہرِ کوثر وجنتوں کے مالک
4 - … یعنی حضرتِ علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ اہلِ عرب بعض اوقات باپ کے چچا زاد کو بھی چچا زاد کہہ دیتے ہیں ۔ (علمیہ)