تمہارا نِکاح کیا ہے۔‘‘ (مُکَاشَفَۃُ الْقُلُوب،باب فی فضل الفقراء ص۱۸۰)
اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مقامِ مریم و حوّا بھی ہے بجا لیکن تیرا مقام ہے تیرا مقام یا زَہرائ!
ہر اِک سانس سے آتی تھی مصطفٰے کی مَہَک تیری حَیات پہ لاکھوں سلام یازَہرائ!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’فاطِمہ‘‘ کے 5 حُروف کی نسبت سے اِِس واقِعہ سے حاصِل ہونے والے 5 مدَنی پُھول
{1}… حبیبِ خدا اور اہلِ بیتِ مصطفٰے (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) اَصحابِ عِفّت و عظَمت (یعنی پاک دامَنی وبُزُرگی والے)، شرْم وحَیا کے پیکر اور ہر حال میں اِس دولتِ بے مِثال سے مالامال مُقدَّس ہستیاں ہیں بالخُصوص والِدۂ حَسَنَین و اُمِّ کلثوم ورُقَیَّہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تو اِنتِہائی درَجہ باپردہ وباحَیا ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا جَنازہ بھی پردے میں اُٹھایا گیا یہاں تک کہ روایت میں آتا ہے کہ بروزِ قیامت بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شرم وحَیا کا مکمل لِحاظ رکھتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی آمَد پر تمام اَہلِ مَحشَر کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیا جائے گا۔ (اَلْجامِعُ الصَّغِیْر مع فَیْضُ الْقَدِیْر،حرف الہمزہ، ج۱، ص۵۴۹، الحدیث:۸۲۲)