Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
339 - 470
دروازے پر دستک دی اور سلام کے بعد اندر آنے کی اِجازت طلَب فرمائی۔ شہزادیٔ مصطفٰے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے تشریف آوَری کے لئے عرْض کی، توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میرے ساتھ ایک اور شخص بھی ہے۔ پوچھا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کون ہیں  ؟ فرمایا: ’’عمران۔‘‘ پیکرِ شرم و حَیا حضرتِ سیِّدَتُنافاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  عرْض کرنے لگیں  :یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  رَبِّ ذُوالْجَلال عَزَّوَجَلَّ  کی قسم ! میرے پاس پردے کے لئے صرْف ایک چادر ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دستِ اَقدس کے اِشارے سے فرمایا: تم ایسے ایسے پردہ کرلو۔عرْض کی: اِس طرح میرا جسم تو ڈھک جاتا ہے مگر سر نہیں  چُھپتا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کی طرف اپنی مُبارَک چادر بڑھا دی اور فرمایا: اِس سے سر ڈھانپ لو۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں  داخِل ہوئے اور سلام کے بعد پوچھا: بیٹی! کیسی ہو؟ تو شہزادیٔ اِسلام، مالِکۂ دارُالسَّلام حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی غُربت اور بیماری کی حالت بَیان کرتے ہوئے عرْض کیا: اے حبیبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں  دوہری تکلیف میں  مُبتَلاہوں  ، ایک تَوبیماری کی تکلیف اور دوسری بھوک کی تکلیف! اور میرے پاس ایسی کوئی چیز بھی نہیں  جسے کھا کر بھوک مِٹا سکوں ۔ یہ سُن