چاہئے۔ گھر کے کام کاج وغیرہ کرنے سے ہاتھوں کی رگیں متحرک رہیں گی اور نسیں سخت نہیں ہوں گی۔
(2)…اپنے گھر کے کام کاج خود کرنا اور بوقت ِ نماز دیگر تمام مصروفیات ختم کر دینا سنَّتِ مصطفٰے ہے۔(صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب النفقات،باب خدمۃ الرجل فی اھلہ ، ص۱۳۷۵،الحدیث:۵۳۶۳)
(3)…گھر میں رہتے ہوئے اسلامی بہنوں کا دست کاری کرنا اور کسبِ حلال کے ذرائع اپنانا سنّت ِاُمُّ المؤمنین وسنّتِ صحابیات ہے۔(سُنَن نَسَائِی،کتاب الزینۃ،لبس البرود، ص۸۴۳، الحدیث:۵۳۳۱ )
(4)…گھر کے کام کاج کرنا سنّتِ سیِّدَہ فاطِمہ ہے۔ اس کی تفصیل مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ آڈیو کیسٹ ’’شہزادیٔ کَونَین کی سادَگی‘‘ میں مل جائے گی۔
(5)…گھریلو کام کاج کرنے والی اسلامی بہن کی گھر میں اَہَمِّیَّت ہوتی ہے یوں اسے گھر میں مدنی ماحول بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔
(6)…گھر کے کام کاج پر توجُّہ دینے سے سُسرالی جھگڑے خصوصاً ساس بہو کی چپقلشیں ختم ہونے کی اُمید ِ واثِق ہے۔ پھر بھی اگر یہ جھگڑے ختم نہ ہوں تو مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ 32 صفْحات پر مشتمل رسالہ بنام ’’ساس بہو میں صلح کا راز‘‘ حاصل کیجئے اور اس میں دیئے ہوئے نسخے پر عمل کیجئے۔
(7)…بے کار شخص شیطان کا آلۂ کار بنتا اور تفکُّرات کے ہجوم میں گِھر جاتا ہے