خاتونِ جنّت کا عالَمِ غُربَت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ680 صفْحات پر مشتمِل کتابِ مُستَطَاب ’’مُکاشَفَۃُ القُلُوب‘‘ صفْحہ265 پر حُجَّۃُ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینقْل فرماتے ہیں : محبوبِ شاہِ کَونَین حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہرِوایَت کرتے ہیں کہ دل وجان سے پیارے، بے کسوں کے سہارے، دو عالَم کے راج دُلارے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے بہت حُسْنِ ظَن رکھتے تھے، ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے اِرشاد فرمایا: اے عمران (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ)! میرے نزدیک تُمہارا ایک خاص مَقام ہے، کیا تم میری بیٹی فاطِمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کی عِیادت کو چلو گے؟ میں نے عرْض کی: ’’فِدَاکَ اُمِّیْ وَاَبِیْ یَا رَسُولَ اللہ یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! کیوں نہیں ؟ ضرور چلوں گا۔‘‘
حضرتِ سیِّدُناعمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں : پھر میں محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَعِیّت میں (مَ۔عَیْ۔یَت یعنی ساتھ) خاتونِ جنّت، شہزادی ٔ اِسلام حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے درِ اَنور پر حاضِر ہو گیا۔ رسول ُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے