بے پردہ ہی گھر سے نکل جایا کرتی تھی ۔ ایک مرتبہ چند اسلامی بہنیں ہمارے گھر آئیں اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں بتاتے ہوئے ہمارے گھر میں سنّتوں بھرا اِجتماع کرنے کی اِجازت مانگی۔ ہم نے بخوشی اِجازت دی،آخِر اِجتِماع کا دن بھی آگیا ، میں خُود بھی اس اِجتِماع میں شریک ہوئی،مجھے اسلامی بہنوں کی سادَگی، حُسنِ اَخلاق اور مَدَنی کام کرنے کا اَنداز بَہُت پسند آیا بِالخصوص رقّت انگیز دُعاسے میں بَہُت مُتَأَثِّر ہوئی ، ایسی دُعا میں نے پہلی مرتبہ سُنی تھی۔ یُوں اس اِجتِماع کی بَرَکت سے مجھے گناہوں سے توبہ نصیب ہوئی اور میں مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو گئی۔ فیشن ترْک کر کے میں نے بھی سادَگی اپنالی اور اب ذَیلی سطح کی ذمّے دار کی حیثیّت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کر کے اپنی آخِرت بنانے کے لئے کوشاں ہوں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مکتبۃ المدینہ کا جاری کردہ ایک کیسٹ بیان روزانہ سننے کا بھی معمول ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر اَدا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے اتنا پیارا مَدَنی ماحول عطا کیا ، اے کاش! ہر اسلامی بہن دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوجائے ۔
اے اسلامی بہنو! تمہارے لئے بھی سُنو ہے بَہُت کام کا مَدَنی ماحول
تمہیں سنّتوں اور پردے کے اَحکام یہ تعلیم فرمائے گا مَدَنی ماحول
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۳۰۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد