Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
333 - 470
بے نمازی تھیں  نمازی بن گئیں  ، گلے میں  دُوپٹّا لٹکا کر شاپِنگ سینٹروں  اور مَخْلوط تفریح گاہوں  میں  بھٹکنے والیوں  کو کربلا والی عِفَّت مَآب شہزادیوں  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی شر م وحیا کی وہ بَرَکتیں  نصیب ہوئیں  کہ مَدَنی بُرقع اُن کے لباس کا جُزْوِ لَا یُنْفَک (یعنی جدا نہ ہونے والا حصّہ) بن گیا اور انہوں  نے اس مَدَنی مقصد کو اپنا لیا کہ  ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں  کی اصلاح کی کوشِش کرنی ہے۔‘‘اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ، مَدَنی قافِلوں  کی برکت سے بعض اَوقات ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ  کی عنایات سے ایمان اَفروزکَرِشمات کابھی ظُہُور ہوا مثلاًمریضوں  کو شِفا ملی، بے اَولادوں  کو اَولاد نصیب ہوئی ، آسیب زَدَہ کو خُلاصی ملی وغیرہا۔ ترغیب وتحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیشِ خدمت ہے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ397 صفْحات پر مُشتمِل کتاب ’’پردے کے بارے میں  سوال جواب‘‘ صفْحہ182  پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقْل فرماتے ہیں  :
میں  فیشن ایبل تھی!
	اسلامی بہنو! ایک مبلِّغۂ دعوتِ اسلامی نے دعوتِ اسلامی میں  اپنی شُمُولیّت کے جو اَسباب بَیان کئے وہ مُلاحَظہ فرمائیے، چُنانچِہایک  اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں  نت نئے فیشن کے کپڑے پہنا کرتی اور