آیت نمبر 31 کے تحت’’تفسیرِ خزائن ُ العرفان‘‘ میں جھانْجھن (1) کی مُمانَعت بَیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اِس سے سمجھنا چاہئے کہ جب زیور کی آواز عَدَمِ قَبولِ دُعا (یعنی دعا قَبول نہ ہونے) کا سبب ہے تو خاص عورَت کی(اپنی) آواز (کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا) اور اُس کی بے پردَگی کیسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہو گی، پردے کی طرف سے بے پروائی، تباہی کا سبب ہے (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ)۔‘‘
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پردے کی اَہمِّیَّت
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس بیان میں آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ سراپائے عِفّت وعِصْمَت، جگر گوشۂ مصطفٰے جانِ رحمت ، سیِّدہ فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کیسا مَدَنی پردہ تھا، زندگی بھر پردہ، کفن ودفن میں بھی پردہ، جنازہ بھی رات کے اندھیرے میں پڑھنے کی وصِیّت فرمائی تاکہ غیر مَحرم کی نظَر نہ پڑے لہٰذا اُس مالِکۂ جنّت، صاحِبۂ رِدائے عِفّت وعِصْمَت کو اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ بروزِ قِیامت اتنی عزَّت عطا فرمائے گا کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پُل صراط پر تشریف لائیں گی تو تمام اہلِ محشر کو حکم ہو گا: سر جھکا لو! حضرتِ محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ
________________________________
1 - …عورتوں کے پاؤں کا ایک زیور جو اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے اور اندر پڑے ہوئے دانوں کی وجہ سے جَھن جَھن کرتا ہے۔