Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
330 - 470
شکل وصورت یا اُبھار وغیرہ) ظاہِر ہو یادوپٹّا اتنا باریک ہے کہ بالوں  کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔ میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیْر وبَرَکت حضرتِ علّامہ مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ’’جو وضْعِ لباس( یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقۂ پَوشِش (یعنی پہننے کا انداز) اب عورات میں  رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں  سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں  یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں  تو (سِوا) خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے، کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قَطْعی ہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ (مُخَرَّجہ)، ج۲۲، ص۷۱۲)
مری جس قدَر ہیں  بہنیں  ، سبھی مدَنی بُرقع پہنیں 
ہو کرَم شہِ زمانہ مدَنی مدینے والے!
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۸۸۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بے پردَگی سببِ غَضَبِ اِلٰہی
	 مُفَسِّرِ قراٰن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صَدرُالْاَفاضِل حضرت ِعلّامہ مولانا حافظ سیِّد مفتی محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی پارہ18 سُوْرَۃُ النُّوْر