بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)
سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو۔(پ۲۲، الاحزاب:۲۳)
سابِقہ رِوایات سے پتا چلا کہ عورت گھر میں یا باہر سرتاپا باپردہ رہے، گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے غیر محرم رِشتہ داروں سے پردہ لازِم ہے، اِسی طرح ضرورتاً گھر سے باہر نکلتے وقْت بھی پردے کا لِحاظ رکھنا اِنتِہائی ضروری ہے لہٰذا
گھر سے نکلتے وقْت کی اِحتِیاط
شرعی اِجازت کی صورت میں گھر سے نکلتے وَقْت اسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مَدَنی بُرقع اَوڑھے، دستانے اور جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے، جہاں کہیں غیر مرد وں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چِہرے سے نِقاب نہ اُٹھائے مَثَلاً اپنے یا کسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحَلّہ وغیرہ، نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اُٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے، واضح رہے کہ عورت کے سر سے لے کر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسْم کا کوئی بھی حصّہ مَثَلاًسر کے بال یا بازو یا کلائی یا گلا یا پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اَجنَبی مرد (یعنی جس سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو) پر بلااجازتِ شَرْعی ظاہِر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسامَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جَھلکے یاایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہَیْئَتْ (یعنی