Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
328 - 470
اور بات کرنے کا وَقْت وغیرہ پوچھے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدانخواستہ باحَیا اور باعَمَل اسلامی بہن کے بِھنچے ہوئے رُوکھے اندازِ گفتگو کا بُرا منائے، اورشرعی مسائل سے ناواقِف ہونے کے سبب مُنہ پَھٹ ہو تو’’کچھ‘‘ بول بھی پڑے جیسا کہ بعض اسلامی بھائیوں  نے اپنا تجرِبہ بَیان کیا ہے کہ نامَحرم عورَتوں  سے ضَرورتاً فون پر بات کرنے کی نَوبَت آنے پر ہمارے غَیرنرم اور رُوکھے لہجے پر عورَتوں  نے مَعَاذَ اللہ اِس طرح کی باتیں  سنا دی ہیں  : ( مثَلاً) مولانا! آپ کو غصّہ کیوں  آ رہا ہے! بَہرحال عافیَّت اِسی میں  معلوم ہوتی ہے کہ ’’آنسرِنگ مشین (1) (Answering machine)‘‘ لگا دی جائے اور اُس میں  مَرد کی آواز میں  یہ جُملہ بھر دیا جائے: ’’پیغام ریکارڈ (Record) کروا دیجئے۔‘‘ بعد میں  مَردوں  کے ریکارڈ شُدہ پیغامات گھر کے مرد اپنی سَہولت سے سُن لیا کریں ۔ اسی طرح نامَحرم پیر صاحِب سے لب و لَہجہ قدرے رُوکھا سا ہو۔ آواز لَوچ دار ونرم اور انداز بے تَکَلُّفا نہ نہ ہو۔
	اُمَّہاتُ الْمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے مُتَعَلِّق پارہ 22  سُوْرَۃُ الْاَحْزَاب آیت نمبر 32 میں  اِرشاد ِربُّ الْعِبَاد ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو! تم اور عورَتوں  کی طرح نہیں  ہو، اگر  اللہ


________________________________
1 - … ایسی مشین جو کسی کی غیر موجودگی میں  ٹیلیفون کال ریکارڈ کرتی ہے۔