Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
326 - 470
مسلمان عورتوں  کو پردوں  میں  رکھ کر ان کی عزّت بڑھائی ہے یا ان کی بے عزّتی کی ہے؟
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کس کس سے پردہ ہے؟
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! دَیْوَر وجَیٹھ، بہنوئی اور خالہ زاد، ماموں  زاد، چچازاد وپُھوپھی زاد، پُھوپھا اور خالو سے پردے کی تاکید کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مُجَدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ’’جیٹھ، دَیْوَر، بہنوئی، پُھپّا (پُھپّھا)، خالو، چچا زاد، ماموں  زاد، پُھپّی(پُھپّھی) زاد، خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے مَحض اَجنَبی (یعنی غیر مرد) ہیں  بلکہ اِن کا ضَرَر (نقصان) نِرے (یعنی مُطلَقاً) بَیگانے (یعنی پَرائے) شخص کے ضَرَر سے زائد ہے کہ مَحض غیر (یعنی بِالکل ناواقِف) آدَمی گھر میں  آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ (یعنی بَیان کردہ رِشتے دار) آپس کے مَیل جُول (اور جان پہچان)کے باعِث خوف نہیں  رکھتے۔ عورت نِرے اَجنَبی(یعنی مُطلَقاً ناواقِف) شخص سے دَفْعَۃً(فوراً) مَیل نہیں  کھا سکتی (یعنی بے تکلُّف نہیں  ہو سکتی ) اور اُن(یعنی مذکورہ رشتہ داروں  ) سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے (یعنی جِھجَک اُڑی ہوئی ہوتی ہے) لہٰذاجب رسولُاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غَیر عَورَتوں  کے پاس جانے