ہٹاؤ تاکہ تمہاری پہچان ہو سکے۔‘‘ یہ دیکھ کر اس کے شوہر نے کہا: ’’ یہ شخص میری زوجہ کے پاس کیوں آیا ہے؟‘‘ وکیل نے کہا: ’’یہ گواہ تمہاری زوجہ کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے تاکہ پہچان ہو جائے۔‘‘
یہ سن کر غیرت مند شوہر پکار اُٹھا :’’ اس شخص کو روک دو، میں قاضی صاحب کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ جودعویٰ میری زوجہ نے مجھ پر کیا ہے وہ مجھ پر لازم ہے، میں 500دینار ادا کرنے کو تیار ہوں ، خدارا !میری زوجہ کا چہرہ کسی غیر مرد پر ظاہر نہ کیا جائے۔‘‘ چنانچہ، گواہ کو روک دیا گیا۔ جب عورت نے اپنے غیرت مند شوہر کا یہ جذبہ دیکھا تو کہا: ’’سب گواہ ہو جاؤ! میں نے اپنا مَہْرمُعاف کر دیا، میں دنیا و آخرت میں اس کا مطالبہ نہ کروں گی، یہ مہر میرے غیرت مند شوہر کو مُبَارَک ہو۔‘‘ محفل میں موجو د تمام لوگ میاں بیوی کے اس فیصلے پر اَش اَش کر اُٹھے۔ قاضی صاحب نے فرمایا:’’ ان دونوں کا یہ مُعامَلہ بہترین اَوصاف اور اعلیٰ اَخلاق پر دلالت کرتا ہے۔‘‘ (عُیُونُ الحِکایات، ص۵۷۲)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِس واقعہ میں ہمارے لئے بہترین سبق ہے۔ کیسا غیرت مند تھا وہ