غیرت مند شوہر کی حکایت بیان کی جاتی ہے جس نے غیرت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی بیوی کا چہرہ غیر مرد کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیا۔اس غیرت کھانے کی وجہ سے اسے عزّت بھی نصیب ہوئی ، چُنانچِہ
غیرت مند شوہر
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبُوعہ 413 صفْحات پر مُشْتمِل کتاب ’’عُیُونُ الحِکایات‘‘حصّہ دُوُم، صَفْحَہ123پر امام عبدُ الرَّحمٰن بن علی جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ’’ایک مرتبہ میں ’’رَے‘‘ (ایران کے دارالخلافہ، موجودہ نام تہران) کے قاضی حضرت سیِّدُناموسیٰ بن اِسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق کی محفل میں تھا ۔ قاضی صاحب لوگو ں کے مسائل حل کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک عورت ان کے پاس لائی گئی، اس کے سرپرستوں کا دعویٰ تھا کہ اس عورت کے شوہر نے اس کا 500دینار مہرادا نہیں کیا۔ جب اس کے شوہرسے پوچھا گیاتو اس نے انکارکر دیا اور کہا: ’’مجھ پر مہر کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔‘‘ شوہر کے انکار پر قاضی صاحب نے عورت سے گواہ طلب کئے، گواہ حاضِر کئے گئے تو ان میں سے ایک نے کہا: ’’میں اس عورت کو دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ اسے پہچان کر گواہی دوں ۔‘‘ چُنانچِہ وہ عورت کی طرف بڑھا اور کہا:’’ تم اپنا نِقاب