Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
320 - 470
 بہو بیٹیوں  کو دوسروں  کی آغوش میں  دیکھتے ہیں  اور ٹس سے مس نہیں  ہوتے بلکہ وہ دَیُّوث(1) فخر سے اِتراتے ہوئے داد دے رہے ہوتے ہیں  ! بے پردہ اور فیشن اَیبل عورَتوں  کے ’’منہ کالے ‘‘ ہونے کی حیا سوزخبریں  آئے دن اخبارات میں  چَھپتی ہیں ۔ وہ عورت جو مرد کی شَہوت رانی کا شکار ہوتی ہے اُسے اگرحَمْل ٹھہر گیا تو کہاں  سر چُھپائے گی؟ حَمْل گرانے کی صورت میں  وہ اپنی جان بھی کھو سکتی ہے۔ چلئے مانا کہ یورپ کے ترقّی یافتہ ممالِک (بلکہ اب تو دُنیا بھر )میں  ایسے اَسپتال موجود ہیں  جو اِسقاطِ حَمْل( یعنیحَمْل گِرانے) کی ’’خدمت ‘‘انجام دیتے ہیں  اور ایسی پناہ گاہیں  بھی موجود ہیں  جہاں  غیر شادی شُدہ ماؤں  کو’’ پناہ ‘‘ مل جاتی ہے لیکن کیامُعاشَرے میں  انہیں  کوئی قابلِ اِحتِرام مقام بھی نصیب ہو سکتا ہے ! مانا کہ رُسوا ہو کر ان دونوں  (یعنی غیرشادی شدہ جوڑے) نے اپنے کئے کی دنیا میں  ہاتھوں  ہاتھ سزا پائی لیکن وہ بچّہ جو اِس طرح پیدا ہواہے اگر زندہ بچ بھی گیا تو اُس کا کیابنے گا؟ اس کے ہَوَس کار باپ نے بھی اس سے آنکھیں  پھیر لیں  ،بَد کار ماں  بھی اُسے کچرا کُونڈی یا کسی محتاج خانے میں  چھوڑ کر چلی گئی! یہ سب بے غیرتی اور


________________________________
1 - …جو لوگ باوجودِ قدرت اپنی عورتوں  اور مَحارِم کو بے پردَگی سے منع نہ کریں  وہ ’’دَیُّوث‘‘ ہیں ۔ (پردے کے بارے میں  سُوال جواب، ص۵۶)حضرتِ علاَّمہ علاؤ الدِّین حَصْکَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’دَیُّوث‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جواپنی بیوی یا کسی مَحرم پر غیرت نہ کھائے۔ (دُرِّمُخْتَار،کتاب الحدود،با ب التعزیر، ص۸۱۳)