صاف کروانا، وغیرہ عورت کے لئے جائز ہے۔ ہاں ! زینت وفیشن کی بعض ایسی صورتیں بھی ہیں جو عورتوں کے لئے بھی منْع ہیں ، جیسے اِنسانی بالوں کی چوٹی بناکر اپنے بالوں میں گوندھنا، اَبرو کے بال نوچنا، ریتی سے دانت رگڑنا وغیرہ جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 1197 صفْحات پرمُشتمِل کتاب’’بہارِ شریعت‘‘ جلد3حصّہ 16، صفْحہ596پر صدرُ الشریعہ، بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرما تے ہیں: انسان کے بالوں کی چوٹی بنا کر عورت اپنے بالوں میں گوندھے یہ حرام ہے۔ حدیث میں اس پر لعنت آئی بلکہ اس پر بھی لعنت جس نے کسی دوسری عورت کے سر میں ایسی چوٹی گوندھی اور اگر وہ بال جس کی چوٹی بنائی گئی خود اسی عورت کے ہیں جس کے سر میں جوڑی گئی جب بھی ناجائز اور اگر اُون یا سیاہ دھاگے کی چوٹی بنا کر لگائے تو اس کی مُمانعت نہیں ۔ سیاہ کپڑے کا مُوباف(1) بناناجائز ہے اور کَلاوَہ(2) میں تو اَصْلاً حرج نہیں کہ یہ بالکل مُمتاز ہوتا ہے۔ اسی طرح گود نے والی اور گودو انے والی یا ریتی سے دانت ریت کر خوبصورت کرنے والی یا دوسری عورت کے دانت ریتنے والی یا موچنے (3)سے اَبرو کے بالوں کو نوچ کر خوبصورت بنانے والی اور جس نے دوسری کے بال نوچے ان سب پر حدیث میں لعنت آئی ہے۔ (رَدُّالمُحْتَار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی النظر، ج۹، ص۵۱۶)
________________________________
1 - …بالوں میں دھاگا لگا کر انہیں دراز کرنا مُوباف کہلاتا ہے۔
2 - …کچّا سوت جو تَکْلے پر لگا ہوا ہو اور تَکْلا چرخے کی اُس آہنی سلاخ کو کہتے ہیں جس پر کاتتے وقت لچّھی بنتی جاتی ہے
3 - … موچنا:یعنی بال اُکھاڑنے کا آلہ۔