Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
317 - 470
پیوند کاری کرکے اُس کو پہننے میں  عار( یعنی عَیب) محسوس کرنے والیاں  اِس روایت کو بار بار پڑھیں  :
	حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ محبوبِ ربُّ العِباد،قرارِ ہر قلبِ ناشاد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ حقیقت بنیاد ہے: ’’کیا تم سُنتے نہیں  ؟ کیا تم سُنتے نہیں  ؟ کہ کپڑے کا پرانا ہونا ایمان سے ہے، بے شک کپڑے کاپُرانا ہونا ایمان سے ہے۔‘‘ 
(سُنَنُ اِبی داود،کتا ب الترجل، ص۳۵۶، الحدیث:۱۶۱۴)
	اِس روایت کے تَحت حضرتِ سیّدُناشیخ شاہ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فر ما تے ہیں  : ’’زینت کا ترْک کرنا اَہلِ ایمان کے اَخلا ق میں  سے ہے۔‘‘ (اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات (مُتَرْجَم)،کتاب اللباس،الفصل الثانی، ج۵، ص۶۷۵)
ولولہ سنّتِ محبوب کا دے دے مالِک
آہ! فیشن پہ مسلمان مرا جاتا ہے
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۷۲۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عورتوں  کے ناجائز فیشن
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! ریشم، سونا، مہندی، مونچھوں  کے بال