Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
316 - 470
صفْحات پر مُشتمِل کتاب’’بیاناتِ عطّاریہ‘‘حصّہ اوّل کے رسالے ’’قبْر کا اِمتِحان ‘‘ صفْحہ30پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  :سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:(معراج کی رات)  میں  نے ایک بدبودار گڑھا دیکھا جس میں  شور وغوغا برپا تھا، میں  نے کہا:یہ کون ہیں  ؟ تو جبرئیلِ امین (عَلَیْہِ السَّلام) نے عرْض کی:’’یہ وہ عورَتیں  ہیں  جو ناجائز اَشیاء سے زینت حاصِل کرتی تھیں ۔‘‘ (تاریخِ بغداد، ج۱، ص۵۱۴)
مسلماں  باز آ جائیں  شہا! فیشن پرستی سے
کرَم کر دو بنیں  پابند ِ سنّت یا رسولَ اللہ!
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۸۴۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ!	اَسْتَغْفِرُاللہ      
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! دینِ اسلام اپنے ماننے والے ہر مرد و زَن کو سادَگی اپنانے کی ترغیب دیتا اور ناجائز ذرائع سے زینت حاصِل کرنے سے منع کرتا ہے ۔سادَگی میں  عزّت وبچت ہے۔فیشن کی خاطِر روز روز نئے لباس پہننے والیاں  ، ذرا فیشن تبدیل ہوا یا لباس تھوڑا پُرانا ہوا یا کہیں  سے معمولی سا پھٹا تو