Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
314 - 470
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ!		اَسْتَغْفِرُاللہ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بے پردَگی کی ہولناک سزا
	حضرتِ سیِّدُنا  امام  شہابُ الدِّین  احمد بن محمد بن حجر مکّی شافِعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی حدیثِ پاک نقْل فرماتے ہیں  : ’’ مِعراج کی رات سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو بعض عورَتوں  کے عذابات کے ہولناک مَناظِرمُلاحَظہ فرمائے، اُن میں  یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں  سے لٹکی ہوئی تھی اور اُس کا دماغ کھول رہا تھا، سرکارِ عالی مرتَبت، باعثِ خیر وبرَکت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِسراپا شفقت میں  عرْض کی گئی کہ یہ عورت اپنے بالوں  کو غیر مردوں  سے نہیں  چُھپاتی تھی۔‘‘ 
(اَلزَّوَاجِر عَنِ اقْتِرَافِ الْکَبَائِر، الکبیرہ ۰۸۲،نشوز المرأۃ، ج۲، ص۶۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کنگھی کے بال بھی چُھپائیے!
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! کہیں  ہمارے فیشن ہمیں  تباہ نہ کر دیں  ، ہماری بے پردَگی ہمیں  جہنَّم میں  نہ دھکیل دے، مرنے سے پہلے سنبھل جانا چاہئے