Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
313 - 470
کہ سر شرْم سے جُھک جاتا ہے پردے کا تصوُّر ہی نہیں  رہا۔ جبسے کُفّارِ مکّار کے زیرِ اثَر آ کر مسلمانوں  نے بے پردَگی کا سلسلہ شروع کیا ہے، مُسلسلتَنَزُّل (یعنی زوال)کے گہرے گڑھے میں  گرتے چلے جا رہے ہیں  ، کل تک جو کُفّا رِ بَداَنجام مسلمان کے نام سے لرزَہ بَر اَندام ہو جاتے(یعنی کانپ اُٹھتے) تھے آج وہ مسلمانوں  کی بے پردَگیوں  اور بد عَمَلیوں  کے باعِث زورآور ہو چکے ہیں  ، اسلامی مُمالِک پر باقاعِدہ جارِحانہ حملے ہو رہے ہیں  اور ظالِمانہ قبضے کئے جا رہے ہیں  مگر مسلمان ہے کہ غفْلَت کی چادر تانے لمبی نیند سویا ہوا ہے۔ خاتونِ جنّت، شہزادیٔ اسلام، جگر گوشۂ شاہِ خیرُ الانام حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرتِ مُبارَکہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کا راتوں  کو جاگ جاگ کر عِبادت کرنے کا ذَوق اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شرم وحَیا کا یہ مُبارَک حال اُن نادان مسلمانوں  کے لئے باعثِ توجُّہ ہے جو T.V اور INTER NET پر فلمیں  ڈِرامے چلا کر، بے ہُودہ فلمی گیت گُنگنا کر، شادیوں  میں  ناچ رنگ کی محفلیں  جما کر، کافِروں  کی نَقّالی میں  داڑھی مُنڈا کر، کفّار جیسا بے شرمانہ لباس بدن پر چڑھا کر، اسکوٹر کے پیچھے بے پردہ بیگم کو بٹھا کر، بے حَیا بیوی کو میک اپ کروا کر، مَخلوط تفریح گاہ میں  لے جا کر، اپنی اولاد کو دُنْیوی تعلیم کی خاطِر کفّار کے مُمالِک میں  کافِروں  کے سپرد کروا کربے حیائی کی آخری حدیں  پھلانگ رہے ہیں۔
وہ قوم جو کل تک کھیلتی تھی شمشیروں  کے ساتھ
سنیما دیکھتی ہے آج وہ ہَمشیروں  کے ساتھ