رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر غمِ مصطَفٰے کا اِس قدَرغَلَبہ ہوا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لبوں کی مسکراہٹ ہیخَتْمہو گئی! اپنے وِصال سے قبْل صِرْف ایک ہی بار مُسکراتی دیکھی گئیں ۔ اِس کا واقِعہ کچھ یوں ہے: شرم وحَیا کی پیکر حضرتِ سیِّدَتُنا خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو یہ تشو یش تھی کہ عُمْر بھر تو غیر مردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے اب کہیں بعدِ وفات میری کفَن پوش لاش ہی پرلوگوں کی نظر نہ پڑ جائے! ایک موقع پر حضرتِ سیِّدَتُنا اَسماء بنتِ عُمَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: میں نے حَبَشہ میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ایک ڈَولی کی سی صورَت بنا کر اُس پر پردہ ڈال دیتے ہیں ۔ پھر اُنہوں نے کَھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اُس پر کپڑا تان کر سیِّدَہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دکھایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بَہُت خوش ہوئیں اور لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ بس یِہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد دیکھی گئی۔‘‘ (جَذْبُ الْقُلُوب(مُتَرْجَم)، ص۱۳۲)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! سیّدِہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پردے کی بھی کیا بات ہے! کسی نے کتنا پیارا شِعْر کہا ہے:
چُو زَہرا باش از مخلوق رُوپوش
کہ دَرآغوش شبّیر ے بَہ بینی
یعنی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرح پرہیز گار و پردہ دار بنو تاکہ اپنی گود میں حضرتِ سیِّدُنا شبّیرِ نامدار امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ جیسی اولاد دیکھو۔