کو نہ دیکھنا فاصلہ کی وجہ سے نہ ہوگا کہ جنّتی مومن کی نگاہ بہت دُور سے دیکھے گی بلکہ ان جگہوں میں عمارتیں مختلف ہوں گی کوٹھیاں ، بنگلے۔ خیال رہے کہ جنت میں پردہ ہوگا۔ ربّ فرماتاہے: ’’ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ(۷۲) (پ۲۷، الرَّحمٰن:۷۲) (ترجمۂ کنز الایمان: حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین۔)‘‘ اور فرماتا ہے: قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ- (پ۲۷، الرَّحمٰن:۵۶) (ترجمۂ کنزالایمان: وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتیں ۔)‘‘ پردہ اس لئے نہیں ہو گا کہ وہاں لوگ فاسق وفاجر ہوں گے بلکہ اس لئے کہ شرم وحیا اچھی چیز ہے، بے پردگی میں بے شرمی ہے، ہاں ! دوزخ میں پردہ نہیں ہو گا وہاں ننگے مرد وعورت ایک ہی تَنُور میں جلیں گے۔(مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب احوال قیامۃوبدء الخلق،باب صفۃ الجنۃواھلھا، ج۷، ص۹۷۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بی بی فاطِمہ کے کفن کا بھی پردہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ397صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’پردے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ صفْحہ200 پرشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولاناا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقْل فرماتے ہیں : ’’سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد خاتونِ جنّت، شہزادی ٔ کونَین حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء