Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
309 - 470
جنّت میں  بھی پردہ
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! دینِ اسلام نے عورت کے حق میں  پردے کو کس قدَ ر اَہَمِّیَّت دی کہ جنّت جہاں  کسی بدنگاہی اور بدکاری کا وہم وگمان تک نہیں  وہاں  بھی جنّتی عورتیں  اور حوریں  پردے میں  ہوں  گی جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  روایت کرتے ہیں  کہ رسولِ خدا، احمدِ مجتبٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے: (مومن کے لئے) جنّت میں  ایک کھوکھلے موتی کا خیمہ ہو گا جس کی چوڑائی یا لمبائی 60 میل (تقریباً 96.54کلو میٹر) کی ہے اس کے ہر گوشے میں  اس کے گھر والے ہوں  گے کہ دوسروں  کو نہ دیکھ سکیں  گے۔ مومن اس خیمے میں  گھومیں  پھریں  گے۔
 (صَحِیْحُ الْبُخَارِی،کتاب التفسیر،باب حور مقصورات فی الخیام، ص۰۵۲۱، الحدیث:۹۷۸۴)
	بیان کردہ حدیث ِ پاک کی شرح کرتے ہوئے حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مِراٰۃُ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ میں  رقم طراز ہیں  : ’’یعنی اس موتی کے مکان کے چاروں  گوشوں  میں  اس کے مختلف گھر والے آباد ہوں  گے کہیں  اپنی دنیاوی بیوی بچے، کہیں  وہ دنیاوی عورتیں  جن کے خاوند کافر مرے اور ان کے نکاح میں  دی گئیں  ، کہیں  وہ کنواری لڑکیاں  جو دنیا میں  بغیر شادی فوت ہوئیں  ، کہیں  حوریں  ، خُدّام ان کے علاوہ انہیں  ایک دوسرے