گھر میں تشریف فرماتھے اس عالَم میں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دونوں مبارَک پنڈلیاں کچھ ظاہر تھیں ۔ اس دوران حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ آئے اور اجازت طلَب کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اجازت عطا فرمائی اور اسی طرح آرام فرما رہے اور گفتگو فرماتے رہے۔ پھر حضرتِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے اجازت طلَب کی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بھی اجازت مَرحمت فرمائی جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی طرح لیٹے رہے اور گفتگو فرماتے رہے۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے اجازت طلَب کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے دُرُست کر لئے۔ حضرتِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہبھی باتیں کرتے رہے۔ جب وہ چلے گئے تو حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں ، میں نے بارگاہِ رِسالت میں عرْض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جب حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے لئے کوئی فکر واِہتِمام نہیں کیا، جب حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ آئے تب بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کوئی اِہتِمام نہیں کیا لیکن جب حضرتِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ آئے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے دُرُست کر لئے۔ رسولِ رحمت، نبیِّ ربُّ العزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: میں اس شخص سے کیسے حیا نہ