Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
306 - 470
 649صفْحات پر مُشْتمِل کتاب’’حکایتیں  اور نصیحتیں  ‘‘ صَفْحَہ598 پر حضرتِ سیِّدُنا شیخ شعیب حر ِیفِیْش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حدیثِ پاک نقْل فرماتے ہیں  : حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے، تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبُوَّت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکر ِعظَمت وشرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزّت،محسنِ انسانِیّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ سراپا برکت ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں  نے اپنی بیٹی میری زوجِیّت میں  دی، مجھے اپنی اُونٹنی پر سوار کرکے مدینۂ پاک زَادَھا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً لے گئے اور بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکو اپنے مال سے آزاد کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ   عمر رَضِیَ اللہُ عَنْـــہپر رحم فرمائے، وہ حق بولتے ہیں  اگرچہ کڑوا ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ   عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْـــہپر رحم فرمائے ، ملائکہ ان سے حیا کرتے ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ   علی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہپر رحم فرمائے، یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہجہاں  چلے حق کو اس کے ساتھ چلا دے۔‘‘ 
(سُنَنُ التِّرْمِذِی، ابواب المناقب عن رسول اللہ ،باب مناقب علی بن ابی طالب ،ص۶۴۸، الحدیث:۳۲۷۳)
حیائے عثمانی
	اُمُّ المؤمنین  بنتِ امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں  کہ رسولِ اَکرَم، نورِ مجسَّم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے