فرماتا ہے۔ پس جو شخص اپنی عزّت کو خراب اور اپنے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتا اس کے لئے معزَّز وباوقار بننا اور اسی حالت پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے۔ عورت کے معزَّز وباوقار ہونے اور رہنے میں شرعی پردے کا بہت بڑا دخْل ہے۔ جو اسلامی بہن پردہ دارہوتی ہے وہ معزَّز ہوتی ہے اس کا معاشرے میں بھی مقام ہوتا ہے اور بارگاہِ ربُّ الانام میں بھی۔ پیکر ِعِفَّت وعظَمت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نقشِ قدَم پر چل کر چادر اور چاردیواری کو اپنے اوپر لازِم کرلینے والی اسلامی بہن اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! خاتونِ جنت کے جِلَو میں جگہ پائے گی اور جسے اپنے پردے کا خیال نہیں ، تو اس کے لئے معاشرے میں عزّت پانا اور اپنا مقام بنانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ معاشرہ اور افرادِ معاشرہ اسی کو عزّت دیتے ہیں جو اپنی عزّت کا خیال رکھتا ہے۔ جو جس خصلت کا عادی ہوتا ہے لوگ اس کی اسی خصلت کا لحاظ رکھتے ہیں ، عزَّت اسی کی ہوتی ہے جو اپنی عزَّت سنبھالتا ہے جیسے محبوبِ مصطَفٰے، سیِّدُ الْاَسخیاء، عثمانِ با حیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے بارے میں منقول ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبہت باحیا تھے، اس خصلتِ باعظَمت نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کو یہ عزَّت دی کہ سیِّدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ملائکۂ کرام عَلَیْہِمُ السَّلام بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے حیا فرماتے تھے ،جیسا کہ
باحیا سے حیا
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ