اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وہ رِداء جس کی تطہیر اللہرے آسماں کی نظَر بھی نہ جس پر پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہَوا چُھو سکے جس کا آنچل نہ دیکھا مَہ و مِہر نے
اُس رِدائے نَزاہَت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! باعزّت وباوفا، پیکرِ شرم وحیا محمدرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحبزادی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آغوش میں تربِیَّت پانے والی شہزادی زوجۂ علی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مقام ومرتبہ کی ایک جھلک ازروئے حدیث آپ نے مُلاحَظہ فرمائی کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پردہ دار رہنے کاایک صلہ یہ دیا کہ روزِ محشر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خاطر اہلِ محشر کو نگاہیں جھکانے کا حکم صادِر کیا جائے گا کیونکہ یہ وہ عفیف وطیِّب شخصِیَّت ہیں جنہوں نے ساری زندگی بلکہ بعد از وصال بھی اپنے پردے کا خیال رکھا۔ تو جو اپنی عادات نکھارنے اور اپنے حالات سدھارنے کامُتَمَنِّی اور اس کے لئے کوشاں ہوتا ہے اللہ تبارَک وتعالیٰ اس کا حامی وناصر ہوتا ہے۔ اسے اس کی کوششوں کا بدلہ اس کی نیتوں کے مطابق اپنے فضْل وکرَم سے دنیا یا آخرت یا دونوں جہاں میں عطا