تیرے نبیِّ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت دُرُودِ پاک پڑھنے کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اب مجھے تمہاری ہر تکلیف پر مدَد کرنے کا حکْم دیا گیا ہے۔ (اَلْقَوْلُ الْبَدِیْع،الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ علٰی رسولِ اللہ، ص۷۲۱)
حضرتِ علَّامہ کِفایت علی کافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی فرماتے ہیں :
نزْع میں گور میں قِیامت میں
ہر جگہ یارِ غمگسار ہے دُرُود
(کافی کی نعت، از مولانا کفایت علی کافی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُنادِی کی نِدا برائے سیِّدَہ فاطِمہ
حافِظ ُ الحدیثحضرتِ سیِّدُنا امام عبدُ الرَّحمن جلال ُ الدِّین سُیُوطی شافِعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی نے امیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ الْمُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت کی ہے کہ سرکارِ دوعالَم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاارشادِمُعَظَّم ہے: ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک مُنادِی نِدا کرے گا، اے اَہلِ مَجمع! اپنی نگاہیں جھکالو تاکہ حضرت ِ فاطِمہ بنت ِمحمّدِ مصطَفٰے (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پُل صِراط سے گزریں ۔‘‘(اَلْجَامِعُ الصَّغِیْرمَعَ فَیْضُ الْقَدِیْر، حر ف الھمزۃ، ج۱، ص۹۴۵، الحدیث:۲۲۸)