اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
خاتونِ جنّت کا پردے کا اِہتِمام
دُرُود شریف کی فضیلت
حضرتِ سیِّدُنا امام شمس ُ الدِّین محمد بن عبدُ الرَّحمن سَخاوِی شافِعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا شیخ شِبلی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : میرا ایک پڑوسی فوت ہو گیا میں نے اُسے خواب میں دیکھا اور پوچھا: ’’مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟‘‘ اُس نے کہا: اے شِبلی! مجھ پر بَہُت بڑی مصیبتیں آئیں حتّٰی کہ سُوال کے وقت میری زبان بند ہو گئی میرے دل میں خیال آیا کہ مجھ پر یہ آزمائش کہاں سے آئی، کیا میری موت اسلام پر نہیں ہوئی؟ تَو نِدا آئی کہ یہ پریشانیاں دُنیا میں زبان کی غفلت کی وجہ سے ہیں ۔ اِسی دوران جب( عذاب کے) فِرِشتے میرے قریب آنے لگے تَو ایک خوبصورت عُمدہ خوشبو والا شخْص میرے اور فِرِشتوں کے درمیان حائل ہو گیا اور اُس نے مجھے جوابات یاد کروائے جو میں نے فِرِشتوں کے سامنے پیش کر دئیے (تَو میری جاں بخشی ہو گئی)۔ میں نے اُس (نورانی) شخص سے پوچھا: اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رَحم فرمائے!آپ کون ہیں ؟ اُس نے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو