صبرکی حقیقت
قُطبِ ربّانی، غوثِ صمدانی حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُ القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے صبر کے متعلِّق دریافت کیا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’صبر یہ ہے کہ بلاومصیبت کے وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حُسْنِ ادَب رکھے اور اُس کے فیصلوں کے آگے سرِتسلیم خم کر دے۔
(بَہْجَۃُ الْاَسْرَار (مُتَرْجَم)، ص۴۱۷)
اندازِ امیرِ اہلسنّت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکی مطْبوعہ 101 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’تعارُفِ امیرِاہلسنّت‘‘ صفْحہ47پرہے: شیخِ طریقت، اَمیرِ اَہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مَحلّے میں رہنے والے ایک اسلامی بھائی نے جو آپ کو بچپن سے جانتے ہیں ، حلفیہ بتایا کہ اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بچپن میں بھی نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ اگر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو کوئی ڈانٹ دیتا یا مار تا تو انتقامی کارروائی کرنے کی بجائے خاموشی اِختِیار فرماتے اور صبر کرتے،ہم نے انہیں بچپن میں بھی کبھی کسی کو برا بھلا کہتے یا کسی کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
یقینا اسلامی بہنوں کے لئے خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکی اِتِّباع