Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
296 - 470
اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے ان سے بچا ہی لیتا ہے اور جو یہ کوشش کرے کہ دُنیا والوں  سے لاپرواہ رہوں  تو بَہُت حد تک اللہ عَزَّوَجَلَّ   اُسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے، مگر یہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے میں  مشغول رہے، خرچ درمیانہ رکھے، گُل چھرّے نہ اُڑائے اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سچّے ہیں  ان کے وعدے حق، غلطی ہم کر جاتے ہیں ۔
 	’’جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کرے گا‘‘اس کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں  : ربّ تعالیٰ کی عطاؤں  میں  سے بہترین اور بَہُت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ ربّ تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا: ’’اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ (پ۲،البقرۃ:۱۵۳)(ترجمۂ کنز الایمان: صبر اور نماز سے مدد چاہو۔)‘‘اور صابر کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ   ہوتا ہے، نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں  برداشت کر لیتاہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کر لیتا ہے، ربّ تعالیٰ نے حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  فرمایا: ’’اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕ     (پ۲۳، صٓ:۴۴) یعنی ہم نے انہیں  بندۂ صابر پایا۔‘‘ صبر ہی کی برکت سے حضرتِ سیِّدُنا امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ  سیِّدُ الشُّہَداہوئے۔
 (مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الزکاۃ،باب لاتحل لہ المسألۃومن تحل لہ ، ج۳، ص۶۰، ملتقطاً)